ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / گورکھپور سانحہ: متاثرہ خاندانوں کا دعوی، آکسیجن نہ ملنے سے ہی ہوئی اموات

گورکھپور سانحہ: متاثرہ خاندانوں کا دعوی، آکسیجن نہ ملنے سے ہی ہوئی اموات

Mon, 14 Aug 2017 19:33:30    S.O. News Service

مہاراج گنج:14/اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں علاج کے دوران آکسیجن کی کمی سے مرنے والوں میں یوپی کے مہاراج گنج ضلع کے تین معصوم بھی شامل ہیں۔ بتا دیں کہ مہارج گنج کے گبرا گاؤں کے رہنے والے عبد کے ڈھائی ماہ کے معصوم بیٹے ان کے سامنے ہی دم توڑ دیا۔مہاراج گنج کے گبروا گاؤں کا رہنے والا ڈھائی مہینے کا معصوم عبدالرحمان اب اس دنیا میں نہیں ہے۔ 8 اگست کو عبدالرحمان بیمار ہونے کے بعد اس کے خاندان والے اسے ضلع اسپتال لے گئے تھے، لیکن حالت میں بہتری نہ ہونے کی وجہ سے اس معصوم کو گورکھپور کے بابا راگھو داس ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔بچے کے گھر والوں کے مطابق جب ڈاکٹروں نے علاج شروع کیا تو سب کچھ ٹھیک تھا، لیکن 11 اگست کو اچانک اس کی طبیعت خراب ہو گئی۔عبد الرحمن کے والد نے بتایا ہے کہ جب آکسیجن کی ضرورت پڑی تو ہسپتال میں ملی ہی نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ میرا بیٹا تڑپ رہا تھا، لیکن آکسیجن نے ملنے کی وجہ سے اس نے دم توڑ دیا۔
بی آر ڈی ہسپتال میں سدھارتھ ضلع کے رہنے والے کشن کے 3 سال کے معصوم بیٹے نے دم توڑ دیا۔ ہٹوا گاؤں کے رہنے والے کشن نے اپنے 3 سال کے معصوم لوکیش کو بخار ہو جانے پر ضلع اسپتال میں داخل کرایا تھا، جہاں اسے گردن توڑ بخار بتا کر گورکھپور میڈیکل کالج ریفر کر دیا گیا۔معصوم لوکیش کے خاندان والوں نے معلومات دیتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ پانچ دن تک وہ میڈیکل کالج میں بھرتی رہا، سب کچھ ٹھیک تھا پھر اچانک اس کی طبیعت خراب ہوئی اور ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔یوگی حکومت بھلے ہی آکسیجن کی کمی سے موت ہونے سے انکار کر رہی ہو، لیکن ہلاک بچے کے والد کشن کا کہنا ہے کہ ان کے بچے کی موت آکسیجن دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔
گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں علاج کے دوران آکسیجن کی کمی سے مرنے والوں میں سنت کبیرنگر ضلع کے دو معصوم بھی شامل ہیں۔ شہر کوتوالی کے مہاراج گنج گاؤں کے رہنے والے اسحاق احمد کے 4 دن کے معصوم ماجد اور کسمینی گاؤں کے رہنے والے بددھرام چودھری کی ساڑھے تین سالہ معصوم شوانی کی بھی موت ہو گئی۔ماجد کے خاندان والے 4 دن کے بچے ماجد کو لے کر گورکھپور میڈیکل کالج لے گئے۔یہ معصوم بچہ 2 دنوں سے بیمار تھا، خاندان والوں کا الزام لگایا ہے کہ ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ماجد کی جان گئی ہے۔ ماجد کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں بڑی لاپرواہی برتی جاتی ہے اور ساتھ ہی مریضوں پر درست طریقے سے توجہ نہیں رکھی جاتی۔
کسمینی گاؤں کی ساڑھے تین سال کی شوانی کی موت بھی بی آر ڈی میڈیکل کالج میں ہوئی۔ خاندان والوں کا الزام ہے کہ ہسپتال میں آکسیجن کا انتظام نہیں تھا۔بتایا جا رہا ہے کہ بچی کی حالت خراب ہونے پر اسے آکسیجن چڑھایا گیا، لیکن ماں نے خود چیک کیا تو آکسیجن سلنڈر میں آکسیجن نہیں تھا۔ شوانی کی ماں اور خاندان والوں نے بی آر ڈی کالج کے ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔بی آر ڈی کالج میں کشی نگر کے پانچ بچوں کی بھی موت ہوئی ہے۔ان پانچ بچوں میں سے ایک 6 سال لکشمی بھی تھی، 6 سال کی لکشمی کو بیمار ہونے پر بہتر علاج کے لئے ان کے والد مہندر پرساد بی آر ڈی ہسپتال لے گئے، بچی کے والد کا کہنا ہے کہ 8 اگست کو بچی کو آکسیجن دینے کی جگہ پمپ تھما دیا گیا اور موت سرٹیفکیٹ دے کر انہیں گھر بھیج دیا گیا۔


Share: